سیلاب سے نقصانات کا حجم 30 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا

اسلام آباد( آن لائن)امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب کے باعث تباہی روز بروز بڑھ رہی ہے ، نقصانات کا حجم 30 ارب ڈالر سے تجاوزکر گیا ہے،سیلاب مزید تباہ کن ہوتا جا رہا ہے جبکہ ماحولیاتی تبدیلی کی بدولت مجموعی نقصان بہت زیادہ ہے۔

ترک ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہت مشکل صورتحال کا سامنا ہے اور ہمیں تباہی در تباہی کا سامنا ہے۔ سیلابی آفت کے باعث پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں پیدا ہو چکی ہیں، لوگ بڑے پیمانے پر بے گھر ہوئے ہیں جبکہ مویشی اور فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ پاکستان میں کل نقصانات کا حجم 30 بلین ڈالر سے تجاوز کرے گا،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دورہ پاکستان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ترک حکومت اور ترک معاشرے سیلاب زدگان کی مدد کے لئے متحرک کیا۔ پاکستان حالیہ آفت سے نمٹنے کے لیے اپنے وسائل بروئے کار لا رہا ہے لیکن تباہی کا پیمانہ اتنا زیادہ ہے کہ ہم یہ کام اکیلے نہیں کر سکتے۔ لہذا ہم نے بین الاقوامی برادری سیاپیل کی ہے کہ وہ اس مشکل گھڑی میں پاکستان کی مدد کریں،پاکستان سیلاب سے پہلے ہی مشکلات کا شکار تھا کیونکہ یوکرائن کی صورتحال کی وجہ سے ہمیں خوراک کے عدم تحفظ جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کررہا تھا اور ہم اس میں کامیاب ہو رہے تھے اور مثبت سمت جارہے تھے لیکن حالیہ سیلاب سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ،پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے اور ان علاقوں میں انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

ہمیں متاثرہ علاقوں کی بحالی، آبادکاری اور تعمیر نو کے لئے بھاری سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ بحالی اور تعمیر نو کے اس عمل میں ہم اپنے قومی وسائل پر انحصار کریں گے۔ چونکہ یہ سیلاب ماحولیاتی تبدیلی کا براہ راست نتیجہ ہے اس لیے ہم امید کرتے ہیں کہ

عالمی برادری بالخصوص ترقی یافتہ ممالک اور اقوام متحدہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کیلیے پاکستان کی معاونت کے لئے آگے بڑھیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں ایسی کسی بھی آفت سے نمٹنے کے لیے تعمیراتی شعبے کو ریگولیٹ کرنے

اور آبی وسائل کے تحفظ کے لیے ایک جامع نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ آفات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔

متعلقہ خبریں